حضرت امام ربّانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی علیہ الرحمۃ والرضوان آپ کی ولادت ١٤ شوال ٩٧١ ھ /١٥٦٣ء ، جلال الدین اکبر بادشاہ کے دور میں سرہند میں ہوئی۔ علوم عقلیہ و نقلیہ میں سند فراغ ٩٨٨ھ میں حاصل کی ١٠٠٧ھ میں آپ کے والد ِ بزرگوار شیخ عبدالاحد علیہ الرحمۃ کا وصال ہوا ۔ سلسلہ عالیہ قادریہ میں حضرت شیخ کمال کیتھلی علیہ الرحمۃ (وصال ٩٨١ھ /١٥٧٣ء) سے نسبت حاصل کی ۔ ١٠٠٨ھ /١٥٩٩ء میں دہلی تشریف لا کر ، زبدۃ العارفین حضرت خواجہ باقی باللہ قدس سرہ، سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہو کر انتہائی کمال حاصل کیا اور اسی سال حضرت شاہ سکندر کیتھلی (نبیرہ شیخ کمال کیتھلی) نے حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ، ( ف ۔٥٦١ھ /١١٦٤ء) کا خرقہ خلافت حضرت مجدد کو عطا کیا۔ عہد اکبری اور جہانگیری میں مسندِ اقتدار سے لے کر عوام کے انتہائی پسماندہ طبقے تک اور سری لنکا کے ساحل سے لے کر آسام تک ، بحیرہ عرب کے جنوبی مسلم علاقوں سے لے کر چین کی سرحدوں تک، حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ نے جو رشد و ہدایت کی شمع فروزاں کی اس سے متذکرہ علاقوں کے علاوہ پورا عالمِ اسلام منور ہوا۔ سلطنتِ مغلیہ کے مقتدر ایوانوں اور عام مسلم گھرانوں میں آپ کے تجدیدی کارناموں کے باعث لاکھوں افراد کامیاب اور راہ یاب ہوئے ۔ آپ کی بے باکی، بے خوفی اور بے غرضی کو دیکھ کر قرونِ اولیٰ و ثانیہ کے مسلمان صحابہ و تابعین کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ طویل عرصہ زنداں میں اسیر (جیل میں نظر بند) رہنے کے باوجود آپ کے پائے ثبات متزلزل نہیں ہوئے۔ آپ کا وصال پر ملال ٦٣ برس کی عمر میں بروز دوشنبہ (پیر) ٢٩ صفر المظفر ١٠٣٤ھ/١٦٢٤ء میں ہوا۔ اپنے وصال کی خبر آپ نے دس برس قبل ہی دے دی تھی، جوکہ آپ کی کرامت ہے۔ آپ کے زمانہ میں مشہور علماء حضرت محقق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ ، پیر طریقت حضرت خواجہ حسام الدین نقشبندی علیہ الرحمۃ اور امام المتکلمین حضرت علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی علیہ الرحمۃ تھے۔ شاعرِ مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کا نذرانہ عقیدت حاضر ہوا میں شیخ مجدد کی لحد پر وہ خاک کہ ہے زیر فلک مطلعِ انوار اس خاک کے ذروں سے ہیں شرمندہ ستارے اس خاک میں پوشیدہ ہے وہ صاحبِ اسرار گردن نہ جھکی جس کی جہانگیر کے آگے جس کے نفسِ گرم سے ہے گرمیئ احرار وہ ہند میں سرمایہ ملّت کا نگہباں اللہ نے بر وقت کیا جس کو خبردار عقائد و اعمال سے متعلق ارشادات اہلسنّت ہی جنت میں جائیں گے: نجات آخرت کا حاصل ہونا صرف اسی پر موقوف ہے کہ تمام افعال و اقوال و اصول و فروع میں اہلسنّت و جماعت (اکثر ہم اللہ تعالیٰ ) کا اتباع کیا جائے اور صرف یہی فرقہ جنتی ہے اہلسنّت و جماعت کے سوا جس قدر فرقے ہیں سب جہنمی ہیں۔ آج اس بات کو کوئی جانے یا نہ جانے کل قیامت کے دن ہر ایک شخص اس بات کو جان لے گا مگر اس وقت کا جاننا کچھ نفع نہ دے گا۔ (مکتوب ٦٩ جلد اوّل مطبع نو لکشور لکھنؤ ٨٦) حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم مقصود کائنات: حدیث قدسی میں ہے کہ حضور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی اَللّٰھُمَّ اَنْتَ وَمَا اَنَا وَمَا سواک تَرَکْتُ لاَجَلِکَ یعنی اے اللہ توہی ہے اور میں نہیں ہوں اور تیرے سوا و کچھ ہے سب کو میں نے تیرے لئے چھوڑدیا اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا یَا مُحَمَّد اَنَا وَ اَنْتَ وَمَا سِوَاکَ خَلَقْتُ لاجَلِکَ یعنی اے محبوب میں ہوں اور تو ہے اور تیرے سواجو کچھ ہے سب کو میں نے تیرے ہی لئے پیدا کیا ۔ (مکتوب ٨ جلد دوم صفحہ ١٨) معرفت ربّ العالمین کا سبب حقیقی: اللہ تعالیٰ عزوجل نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد فرمایا۔ لَوْ لاکَ لَمَا خَلَقْتُ الافْلاک یعنی تمہارا پیدا کرنا مجھے مقصود نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا لَوْ لاکَ لَمَا اَظْہَرْتُ الرَّبُوْ بِیَّۃَ یعنی تمہارا پیدا کرنا مجھے مقصود نہ ہوتا تو میں اپنا رب ہونا بھی ظاہر نہ کرتا۔ (مکتوب ١١٢جلد سوم صفحہ ٢٣٢) مجدد صاحب کی زندگی کا مرکز و محور:مجھے اللہ تبارک و تعالیٰ کے ساتھ اسلئے محبت ہے کہ وہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا رب ہے ۔ (مکتوب ٢٢١جلدسوم صفحہ ٢٢٤) نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ کے نور سے ہیں: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خلقت کسی بشر کی خلقت کی طرح نہیں بلکہ عالم ممکنات میں کوئی چیز بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتی ۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ عزوجل نے اپنے نور سے پیدا فرمایا ہے۔ (مکتوب ١٠٠ جلد سوم صفحہ ١٨٧) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاسایہ نہیں تھا: عالم امکان کو (جو تحت الثریٰ سے عرش تک کی جملہ موجودات و کائنا ت کا محیط ہے) جس قدر دقت نظر کے ساتھ دیکھا جاتا ہے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کا وجود پاک اسکے اندر نظر نہیں آتا ۔ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اس بزم امکان سے بالا تر ہیں۔ اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔ (مکتوب ١٠٠ جلد سوم صفحہ ١٨٧) عقیدہ علم غیب: جو علم غیب اللہ عزوجل کے ساتھ مخصوص ہے اس پر وہ اپنے خاص رسولوں کو مطلع فرمادیتا ہے۔ (مکتوب ٣١٠ جلد اول ٤٤٦) شیخ مجدد کا مسلک پرتصلّب و تشدد: جو شخص تمام ضروریات دین پرایمان رکھنے کا دعویٰ کرے لیکن کفرو کفار کے ساتھ نفرت و بیزاری نہ رکھے وہ درحقیقت مرتد ہے۔ اس کا حکم منافق کا حکم ہے۔ جب تک خدا عزوجل اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کے ساتھ دشمنی نہ رکھی جائے اس وقت تک خدا و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت نہیں ہوسکتی ۔ یہیں پر یہ کہنا ٹھیک ہے ع تولّٰی بے تبرّ یٰ نیست ممکن (مکتوب ٢٦٦ جلد اول صفحہ ٣٢٥) اہلبیت کی محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کرام کیساتھ محبت کا فرض ہونا نصِ قطعی سے ثابت ہے ۔ اللہ عزوجل نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت الی الحق و تبلیغ اسلام کی اجرت امت پر یہی قرار دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں کیساتھ محبت کی جائے۔ قُل لاَّ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلا الْمَوَدَّۃَ فِیْ الْقُرْبٰی۔ (مکتوب ٢٦٦، جلد اول صفحہ ٣٢٦) اصحاب رسول سے محبت : حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو نیکی کیساتھ یاد کرنا چاہئے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی وجہ سے انکے ساتھ محبت رکھنی چاہئے ۔ ان کے ساتھ محبت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ محبت ہے، انکے ساتھ عداوت حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کیساتھ عداوت ہے۔ (مکتوب ٢٦٦، جلد اول صفحہ ٣٢٦) اصحابِ رسول کے درجات: تمام صحابہ کرم میں سب سے افضل و اعلیٰ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں پھر ان کے بعد سب سے افضل سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ان دونوں باتوں پر اجماع امت ہے اور چاروں آئمہ مجتہدین امام اعظم ابو حنیفہ و امام شافعی و امام مالک و امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہم اجمعین اور اکثر علماء اہلسنّت کا یہی مذہب ہے کہ حضرت عمر کے بعد تمام صحابہ میں سب سے افضل سیدنا عثمان غنی ہیں ، پھر ان کے بعد تمام امت میں سب سے افضل سیدنا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ، ہیں۔ (مکتوب ٢٦٦، جلد اول، صفحہ٣٣٠) میلاد و اعراس کی محافل جائز ہیں: مجلس میلاد شریف میں اگر اچھی آواز کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت کی جائے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت شریف اور صحابہ کرام و اہل بیت عظام و اولیائے اعلام رضی اللہ عنہم اجمعین کی منقبت کے قصیدے پڑھے جائیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ ناجائز بات تو یہ ہے کہ قرآن عظیم کے حروف میں تغیر و تحریف کر دی جائے۔ اور قصیدے پڑھنے میں راگنی اور موسیقی کے قواعد کی رعایت و پابندی کی جائے اور تالیاں بجائی جائیں۔ جس مجلس میلاد مبارک میں یہ ناجائز باتیں نہ ہوں اس کے ناجائز ہونے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ ہاں جب تک راگنی اور تال سُر کے ساتھ گانے اور تالیاں بجانے کا دروازہ بالکل بند نہ کیا جائے گا ابو الہوس لوگ باز نہ آئیں گے۔ اگر ان نامشروع باتوں کی ذرا سی بھی اجازت دے دی جائے گی تو اس کا نتیجہ بہت ہی خراب نکلے گا۔ (مکتوب ٧٢ جلد سوئم صفحہ ١١٦) رعایا کے ساتھ بادشاہ کا تعلق ایسا ہے جیسا دل کا جسم سے ہوتا ہے، اگر دل ٹھیک ہو تو بدن بھی ٹھیک رہے گا، اگر دل بگڑ جائے تو بدن بھی بگڑ جائے گا، بالکل اسی طرح ملک کی بہتری بادشاہ کی بہتری پر منحصر ہے، اگر بادشاہ بگڑ جائے گا تو ملک کا بگڑ جانا بھی لازمی ہے۔ وصال: آپ کا وصال بروز پیر ۲۸ صفر المظفر ۱۰۳۴ھ، مطابق جنوری ۱۶۲۵ء کو ہوا۔ آپ کا مزار پر انوار سرہند شریف (انڈیا) میں ہے